اشاعتیں

زلزلہ

زلزلہ آج انسان خلء و کائنات، زمین و آسمان اور سیاروں پر فتح حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے- تو دوسری طرف وہ زلزلہ کے سامنے بلکل لاچار نظر آتا ہے- زلزلہ کا منظر بڑا بھیانک ہوتا ہے اس سے زمین پر بدترین بربادی ہوتی ہے- زلزلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب آسمان، زمین یا پانی میں کہیں بھی ایک جگہ درجہ حرارت زیادہ اور اسی علاقے کے دوسرے حصّے میں کم ہوتا ہے- تو زیادہ درجہ حرارت کم کی طرف نہایت تیزی سے بڑھتا ہے تاکہ فرق مٹ سکے اسی وجہ سے ہوا زمین پر چلتی ہے- آندھی، طوفان آتے ہیں اور زمین کے اندر ہلچل ہوتی ہے- زمین کے نیچے درجہ حرارت میں فرق کی وجہ سے جو اثرات ہوتے ہیں- وہ کبھی کبھی زمین کے اوپر بھی نظر آتے ہیں- جنہیں ہم زلزلہ کہتے ہیں- جن علاقوں میں زمین نرم ہوتی ہے زلزلہ وہاں آتے ہیں- دنیا میں اب تک دو بڑے بھیانک زلزلے آچکے ہیں- ایک 1556 میں چین میں، جس میں 8، لاکھ سے زیادہ انسانو کی موت ہوگئی تھی- اور 1976 میں بھارت میں 7 لاکھ سے زیادہ انسانوں کی موت ہوئی تھی- زلزلہ ایک بڑی خطرناک قدرتی آفت ہے-

علم کی اہمیت

علم کی اہمیت جو چیز ہم نہیں جانتے اسے جان لینے کا نام علم ہے- ایک نابینا شخص کے لیے لاٹھی جتنی زیادہ ضروری ہے اتنا ہی ایک عام انسان کے لیے علم ہے- یعنی علم انسان کے لیے اندھے کی لاٹھی کے مترادف ہے- بلکہ اس کی افادیت و اہمیت اس لاٹھی سے کہیں زیادہ ہے- اور یہ سچ بھی ہے نا جاننے والا جاننے والے کے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟ علم کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن کی پہلی آیت نازل ہوئی "اقرا....."یعنی"پڑھو "- علم کی اسی افادیت کے پیش نظر رسول کریمﷺ نے حکم دیا کہ علم حاصل کرنے کے لیے چین بہ جانا پڑے تو ضرور جاؤ- ظاہر ہے علم دین کا مرکز ہے- اس دور میں تو مکّہ اور مدینہ ہی تھا- اس لیے اس زممانے میں علم دین حاصل کرنے کے لیے چین جانے کی ترغیب جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو اکثر علماء کا خیال ہے کے دنیاوی علم ہی اس سے مراد ہے- حضرت علی ر ﺿ نے ارشاد فرمایا ہے کہ علم مسلمانوں کی میراث ہے- اسے چاہئیے کہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرلے- ہر چیز بانٹنے سے کم ہوتی ہے جبکے علم کو جتنا بانٹا جاۓ یہ بڑھتا ہی جاتا ہے- دولت کی حفاظت انسان کرتا ہے- جبکہ انسان کی حفاظت علم کرتا ہے- ...